بنگلورو،27؍نومبر (ایس او نیوز) مرکز کی مزدور مخالف پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے مختلف مزدور تنظیموں نے جمعرات کو بنگلور، اُڈپی، کاروار، منڈگوڈ، بھٹکل، ہوناور سمیت کرناٹک کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا اور ان پالیسیوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
بنگلور میں ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کے دوران سٹی ریلوے اسٹیشن تا فریڈم پارک بارش کے درمیان ریلی نکالی گئی جس کے دوران مزدور انجمنوں کے کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔بشمول آئی این ٹی یو سی، اے آئی ٹی یو سی، ایچ ایم ایس، سی آئی ٹی یو سی، جے سی ٹی یو مختلف مزدور تنظیموں کے کارکنوں نے اس احتجاجی ریلی اور مظاہرہ میں حصہ لیااور کسان مخالف اور مزدور مخالف قانون کو واپس لینے کامطالبہ کیا۔اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مزدور انجمنوں کے قائدین نے کہا کہ کورونا وائرس کے نام پر ملک میں غیر ضروری لاک ڈاؤن کیا گیا۔ پہلے ہی اس ملک میں مزدوروں کے سینکڑوں مسائل ہیں۔ ملک کی معیشت کی بہت بری حالت ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے حکومت اس ملک کے کسانوں اورمزدوروں کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کسان اور مزدور مخالف قوانین نافذ کررہی ہے۔کسان اور مزدور مخالف قانون کو واپس لینے کا مظاہرین نے پرزور مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے شمار صنعتیں بند ہوجانے سے تقریباً 15کروڑ مزدور اپنا روزگار گنوا بیٹھے ہیں۔ایسے کنبوں کو ان کے گذر معاش کے لئے ماہانہ 7,500روپئے معاوضہ ادا کیا جائے۔ ضرورت مند کسانوں کو ماہانہ 10کلو اناج مفت فراہم کیا جائے۔نریگا اسکیم کو سالانہ دو سو سے زیادہ دنوں جاری رکھا جائے اور شہر ی علاقوں میں مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کرنے کا بھی مظاہرین نے مطالبہ کیا۔
بشمول شعبہ مالیات عوامی شعبہ میں کسانوں کے تحفظ کے لئے آرڈی نینس جاری کرنے جو بڑی صنعتیں بند ہوچکی ہیں انہیں دوبارہ کھولنے اقدامات کرنے کا مظاہرین نے مطالبہ کیا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے منظور مزدور دشمن اور کسان دشمن قوانین اور ریاستی حکومت کی جانب سے منظور کسان دشمن آرڈی نینس کو واپس لیا جائے۔
مختلف سرکاری خدمات جیسے تعلیم، صحت، ریلویز، بجلی، انشورنس اور بینکنگ سیکٹرس کی نجکاری کرنے کے سلسلہ کو بند کیا جائے۔قومی اجرت کم سے کم ماہانہ 21ہزار روپئے مقرر کرنے کا بھی مظاہرین نے مطالبہ کیا۔آسام اور تمل ناڈو کے ماڈل پر دیگر ریاستوں میں بھی غیر منظم شعبوں کے لئے سماجی تحفظ(جس میں پراویڈنٹ فنڈ بھی شامل ہے) یقینی بنایا جائے۔ آج مزدور انجمنوں نے ریاست کے کئی بڑے شہروں میں جن میں ہبلی دھارواڑ، ہاویری، وجئے پور، بیلگاوی، داونگرے، چتردرگہ، اڈپی وغیرہ میں بھی مزدوروں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔